آمدورفت

Flag Counter
پاک اردو ٹیوب. Powered by Blogger.

بلاگر حلقہ احباب

ٹوٹل کتنے لوگوں نے دیکھی ہے ویب سائٹ

محفوظات

پلیز سبسکرائب کریں

روزانہ کے ٹرینڈز کے بارے میں پڑھے

روزانہ کے ٹرینڈز کے بارے میں پڑھے

Top News

امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کے میزبان پیٹ ہیگسیتھ نے نشریات کے دوران کہا ہے کہ 'جراثیم حقیقی چیز نہیں ہیں۔' اور خود انھیں اپنے ہاتھ دھوئے دس برس ہو چکے ہیں۔
فوکس اینڈ فرینڈز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ہیگسیتھ نے کہا کہ انفیکشن پیدا کرنے والے مائیکرو آرگنزم (خوردبینی اجسام) کا وجود نہیں کیونکہ وہ کھلی آنکھوں سے نہیں دیکھے جا سکتے۔
ہارورڈ اور پرنسٹن سے تعلیم حاصل کرنے والے فاکس نیوز کے میزبان نے مزید کہا کہ 'میں خود کو ٹیکہ لگاتا ہوں۔'
انھوں نے یہ اعتراف اس وقت کیا جب ان کے ساتھی میزبان ایڈ ہینری اور جیڈیاہ بیلا نے ان کا بچے کھچے پیزا کھانے پر مذاق اڑایا۔
ہیگسیتھ نے مزید کہا: 'میرا سنہ 2019 کا عہد (ریزولیوشن) یہ ہے کہ میں جو باتیں نشریات کے باہر کہتا ہوں وہ نشریات کے دوران کہوں۔'
ان کے بیان پر سوشل میڈیا میں ملا جلا ردعمل نظر آیا۔ بعض لوگوں نے جہاں ان کی حمایت کی وہیں بعض لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے لکھا: 'میں ہاتھ دھونے کے معاملے میں آپ سے متفق ہوں۔ میں تقریبا 70 سال کا ہوں لیکن برسوں سے مجھے کوئی نزلہ بخار نہیں ہوا۔ ہمارے جسم کو جراثیم کی ضرورت ہے تاکہ ان سے لڑ سکے۔ یہاں بہت سارے جراثیم سے ڈرنے والے لوگ ہیں۔'
جبکہ ایک دوسرے صارف بریڈلی پی ماس نے لکھا: 'کیا پیٹ ہیگسیتھ ریستوراں میں ان کا کھانا تیار کرنے والوں کی جانب سے دانستہ طور پر ہاتھ نہ دھونے پر اتنے ہی نرم ہوں گے؟'
مسٹر ہیگسیتھ نے اس کے بعد یو ایس اے ٹوڈے اخبار کو بتایا کہ انھوں نے ازراہِ مذاق اور تفنن طبع کے لیے وہ باتیں کہی تھیں۔
انھوں نے کہا: 'ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لوگ اپنی جیب میں پیورل (ہاتھ کو جراثیم سے پاک کرنے والے لوشن) کی شیشی لیے پھرتے ہیں اور وہ دن بھر میں 19 ہزار بار اپنے ہاتھ کو جراثیم سے پاک کرتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اس سے ان کی زندگی بچ جائے گی۔'
میں اپنا خیال رکھتا ہوں اورہر چیز کے متعلق ہر وقت وہم نہیں پالتا۔'
عوام کے رد عمل کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ لوگ اسے 'من و عن اور سنجیدگی کے ساتھ اس طرح لے لیں گے' کہ ان کے 'سر پھٹنے لگیں۔'
امریکہ میں بیماری کی روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی پی) کا کہنا ہے کہ ہاتھ کا مستقل دھونا 'جراثیم سے پاک کرنے، بیمار ہونے سے بچنے اور دوسروں تک جراثیم پھیلانے سے حفاظت کے بہترین طریقوں میں شامل ہے۔'
امریکہ کی بایوٹیکنالوجی انفورمیشن کے قومی مرکز سے شائع ایک سائنسی تحقیق کے مطابق انسانی چہرے کے ایک گرام حصے میں جس کا وزن ایک پیپر کلپ کے برابر ہو اس میں ایک کھرب جراثیم ہو سکتے ہیں۔
ہاتھ نہ دھونے سے جو بیکٹریا پھیلتے ہیں ان میں سالمونیلا اور ای کولائی شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بھی دوسرے ٹی وی چینل سے زیادہ فوکس نیوز کو انٹرویوز دیے ہیں انھوں نے کئی مواقع پر یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ جراثیم دریدہ ہیں۔
ہاتھ دھوناتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
انھوں نے سنہ 1997 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب 'دی آرٹ آف دا کمبیک' میں لکھا: 'امریکی معاشرے کی لعنتوں میں سے ایک مصافحہ کرنے کا چھوٹا سا عمل بھی ہے اور زیادہ کامیاب اور مشہور لوگ اس رسم میں زیادہ ہی شامل نظر آتے ہیں۔'
'مجھ میں صاف ہاتھ رکھنے کا جنون ہے۔ جب میں اپنے ہاتھ اچھی طرح دھو لیتا ہوں تو مجھے بہتر محسوس ہوتا ہے اور میں یہ کام جہاں تک ممکن ہے کرتا ہوں۔'
بی بی سی کے ایک قاری سٹیو ایم نے کہا: 'میں ڈونلڈ ٹرمپ سے اتفاق رکھتا ہوں لیکن میں میرے خیال سے میں ایسا کبھی کہہ نہیں سکتا۔
'ایسا لگتا ہے کہ ہارورڈ اور پرنسٹن میں تعلیم حاصل کرنے سے آپ کو معلومات تو ہوتی ہیں لیکن عقل بھی آ جائے کوئی ضروری نہیں۔'
بعض افراد نے کہا کہ حفظان صحت کا جنون بھی اچھی چیز نہیں ہے اس سے جراثیم سے مدافعت کی اپنی قدرتی طاقت میں کمی ہوتی ہے۔
لیکن ایک قاری کیون کک نے لکھا: 'دس سال تک اپنے ہاتھ نہ دھونے سے میرے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ آپ کتنے لا پروا ہیں اور اپ دوسروں کی صحت کے بارے میں کتنے غافل ہیں۔'
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں زیر علاج سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ڈاکٹرز کی ٹیم میں شامل ایک معالج کے مطابق ابھی ان کی اینجیوگرافی کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور دوائیوں کے ذریعے ہی ان کی طبیعت بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سزا کاٹنے والے سابق وزیر اعظم کی طبیعت خراب ہو گئی جس کے بعد نواز شریف اپنے ذاتی کارڈیالوجسٹ کے مشورے پر اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول سے گفتگو میں ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کی رات بہتر گزری ہے اور ابھی ان کا معمول کا معائنہ کیا جائے گا۔
متعقلہ ڈاکٹر کے مطابق ’ان کے خون کے ٹیسٹ کا رزلٹ ابھی نارمل لیول سے کچھ زیادہ آیا ہے تاہم فی الحال اسے دوائیوں سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اگر آگے بھی رزلٹ خراب آیا تو پھر اینجیوگرافی کی جائے گی۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’یہ ایک عام کیس نہیں ہے ایک غیر معمولی کیس ہے، سیاسی اور انٹیلیجنس انوالمنٹ ہے۔ ہو سکتا ہے انھیں ایک ہفتے دس دن یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے لیے ہسپتال میں رکھا جائے۔ عموماً میں عام طور پر کوئی اس طرح کا مریض آتا ہے تو اگر اینجیوگرافی نہ کرنی ہو تو پانچ دن بعد مریض کو ڈسچارج کر دیا جاتا ہے۔‘
ہسپتال ذرائع کے مطابق ہسپتال کا سیکنڈ فلور سیل ہے جہاں نواز شریف موجود ہیں۔ دیگر فلورز میں سکیورٹی کلیئرنس کے بعد عام افراد اور مریضوں کو اندر جانے کی اجازی دی جا رہی ہے۔
کمشنر اسلام آباد نے پمز ہسپتال کے سیکنڈ فلور کو سب جیل قرار دیے جانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وہی کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ ہے جسے نواز شریف کی حکومت کے دروران فواد حسن فواد نے بند کرنے کی کوشش کی تھی تاہم سپریم کورٹ نے سو موٹو نوٹس لے کر اس فیصلے کو روکا گیا تھا۔
گذشتہ روز پمز کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ نواز شریف کو کارڈیولوجی کے پرائیوٹ وارڈ میں صدرِ پاکستان کے لیے مخصوص کمرہ دیا گیا ہے۔
یہ ہسپتال کا کمرہ عام پرائیوٹ رومز کی طرح نہیں ہے بلکہ اسے ہسپتال میں 'صدارتی کمرہ' کہا جا سکتا ہے۔ اس بڑے کمرے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ساتھ کئی دوسرے کمرے ہیں جہاں ممکنہ طور سکیورٹی عملہ قیام کرے گا۔
پمز کے کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر نعیم ملک جیل میں نواز شریف کا معائنہ کیا تھا اور تجویز دی کہ نواز شریف کے خون میں کلوٹنگ ہو رہی ہے جو کہ تشویشناک بات ہے۔ نواز شریف کے دونوں بازوں میں درد بھی ہے۔
جس کے بعد آئی جی جیل خانہ جات نے ڈاکٹروں کی تجویز کے بعد نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت مانگی۔
تاہم نواز شریف نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل ہونے سے انکار کرتے ہوئے ذاتی کاڑڈیالوجسٹ سے معائنہ کروانے پر اصرار کیا۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے بھی جیل میں نواز شریف کی طبیعیت خراب ہوئی تھی اور طبی ٹیم نے اُن کا معائنہ کیا تھا۔ نواز شریف کے دل کی دھڑکن میں توازن نہیں تھا اور خون میں یوریا کی مقدار بھی بڑھ گئی تھی۔

یاد رہے کہ چند سال قبل نواز شریف کی لندن میں ہارٹ سرجری ہوئی تھی۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پرضمانت کی درخواست کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ نے نواز شریف کے وکیل سے کہا ہے کہ عدالت کیسے مروجہ طریقۂ کار کو نظر انداز کرکے طبی بنیادوں پر ان کے موکل کو ضمانت دے سکتی ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے منگل کو نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کی سماعت شروع کی تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کی صحت کے بارے میں تین میڈیکل بورڈز تشکیل دیے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان میڈیکل بورڈز کے چند سینئیر ڈاکٹروں نے اپنی رپورٹ میں سابق وزیر اعظم کو دل کے علاوہ ذیابیطس اور گردوں کا مرض
خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل بورڈ نے ان بیماریوں کی مزید تشخیص اور علاج کی سفارش کی ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کمرۂ عدالت میں موجود ڈاکٹروں کے بورڈ میں شامل ایک ڈاکٹر نے اس رپورٹ کی تصدیق کی۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو لاہور کے سروسز ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں دل کے مرض کے علاج کے لیے نہ تو کوئی وارڈ ہے اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر موجود ہے۔
نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو چند روز سروسز ہسپتال میں رکھ کر دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔لاحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مجرم ایسی بیماری میں مبتلا ہو جو کہ جان لیوا ہو تو اس کو طبی بنیادوں پر ضمانت دی جا سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر کسی مجرم کی اپیل کافی عرصے تک سماعت کے لیے مقرر نہ کی جائے تو ضمانت حاصل کرنا اس مجرم کا حق ہوتا ہے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں عدالت اس تاخیر کو مدنظر رکھے گی وہیں ضمانت لینے کے میرٹ کو بھی دیکھنا ہو گا۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ پارلیمان بھی ایسے مجرموں کو، جو ایسے حالات سے گزر رہے ہوں کی جلد ضمانت دینے سے متعلق قانون سازی کر سکتی ہے۔
اس سے پہلے خواجہ حارث نے پہلے سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواست واپس لے لی اور موقف اختیار کیا کہ جب انھوں نے پہلی درخواست دائر کی تھی اس وقت نواز شریف کی صحت خراب نہیں ہوئی تھی۔
نیب کے پراسیکوٹر نے یہ درخواست واپس لینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھیں عدالت سے طبی بنیادوں پر دائر کی جانے والی درخواست پر ریلیف نہ ملا تو نواز شریف کے وکیل دوبارہ درخواست دائر کردیں گے۔
انھوں نے کہا کہ عدالت اس بارے میں آبزرویشن دے جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی کوئی نئی درخواست سامنے آئی ہی نہیں تو عدالت مفروضوں پر کیسے کوئی حکم نامہ جاری کر دے۔
عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی